لاہور(رم نیوز) پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے ترقیاتی بجٹ کی ابتدائی تجاویز تیار کر لی ہیں، جس میں مجموعی طور پر 1450 ارب روپے کے فنڈز رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ حجم گزشتہ سال کے مقابلے میں 4.4 فیصد زائد ہے۔حکومتی تجاویز کے مطابق ترقیاتی فنڈز کی تقسیم میں سوشل سیکٹر اور بنیادی ڈھانچے کو ترجیح دی گئی ہے۔ تعلیم اور صحت سمیت دیگر سماجی خدمات کے لیے 564 ارب روپے کی سب سے بڑی رقم مختص کرنے کی تجویز ہے۔
سڑکوں اور پلوں کی تعمیر و مرمت کے لیے 380 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ زراعت اور صنعت کے لیے 177 ارب روپے مختص کرنے کا منصوبہ ہے۔سروسز سیکٹر کے لیے 116 ارب اور گورننس کی بہتری کے لیے 61 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ متفرق منصوبوں کے لیے 150 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔آئندہ بجٹ کی نمایاں خصوصیت ماحولیاتی تحفظ اور خصوصی ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈنگ میں بڑا اضافہ ہے۔
حکومت نے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے فنڈز کی فراہمی کو کلیدی اہمیت دی ہے۔ ان تمام تجاویز کو حتمی منظوری کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب کی زیرِ صدارت اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ کی جانب سے جائزہ لینے اور گرین سگنل ملنے کے بعد اسے صوبائی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے سرکاری بجٹ کا حصہ بنا دیا جائے گا۔