مغربی بنگال میں ممتا بینرجی کا 15 سالہ اقتدار ختم، مودی کی سیاسی گرفت مزید مضبوط

کولکتہ/دہلی (رم نیوز)مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے تمام اندازوں کو غلط ثابت کرتے ہوئے 294 میں سے 206 نشستیں حاصل کر کے تاریخی کامیابی سمیٹ لی ہے۔ اس فتح کے ساتھ ہی ریاست میں ممتا بینرجی کا 15 سالہ اقتدار ختم ہو گیا ہے اور بی جے پی پہلی بار ریاست میں حکومت بنانے کے لیے تیار ہے۔ انتخابات کا سب سے بڑا اپ سیٹ خود ممتا بینرجی کی شکست رہی۔

وہ اپنے روایتی حلقے بھوانی پور سے بی جے پی کے سویندو ادھیکاری کے ہاتھوں 15 ہزار ووٹوں سے ہار گئیں۔ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) جو پچھلے انتخاب میں 213 نشستوں پر تھی، اب سمٹ کر صرف 81 نشستوں پر رہ گئی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ممتا حکومت کے خلاف عوامی ناراضی، بدعنوانی اور تشدد کے واقعات نے بی جے پی کی راہ ہموار کی۔ اس کے علاوہ 'اسپیشل انٹینسیو ریویژن' (SIR) کے تحت ووٹر لسٹوں سے تقریباً 27 لاکھ ناموں کا اخراج بھی ہار کی بڑی وجہ بنا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عمل نے جمہوریت کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ جیت وزیراعظم نریندر مودی کو سیاسی طور پر ناقابلِ تسخیر بنا دے گی۔ ممتا بینرجی، جو قومی سطح پر مودی کے خلاف سب سے مضبوط آواز تھیں، اب اقتدار سے باہر ہو چکی ہیں۔ اس کامیابی کے بعد مرکزی حکومت کے لیے شہریت کے متنازع قوانین (CAA)، وقف ایکٹ اور یکساں سول کوڈ جیسے ایجنڈوں کو آگے بڑھانا آسان ہو جائے گا۔ بنگال کے نتائج کے ساتھ ساتھ کیرالہ میں کمیونسٹ پارٹی کی شکست نے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ گذشتہ 50 سالوں میں پہلی بار انڈیا کی کسی بھی ریاست میں کمیونسٹ حکومت موجود نہیں رہی۔

بی جے پی نے آسام میں بھی اپنی نشستیں 60 سے بڑھا کر 82 کر لی ہیں۔ اگرچہ تامل ناڈو اور کیرالہ میں بی جے پی کو بڑی انتخابی کامیابی نہیں ملی، لیکن وہاں مودی مخالف وزرائے اعلیٰ کی شکست نے مجموعی طور پر بی جے پی کے سیاسی قد کو مزید بلند کر دیا ہے۔