سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت ہم پلہ ہیں، ایک دوسرے کے ماتحت نہیں؛ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد تاریخی فیصلہ جاری

اسلام آباد(رم نیوز) سپریم کورٹ آف پاکستان نے 27ویں آئینی ترمیم کے نفاذ کے بعد اپنے اور وفاقی آئینی عدالت کے دائرۂ اختیار سے متعلق ایک اہم اور تاریخی تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت ہم پلہ عدالتیں ہیں اور کوئی بھی ایک دوسرے کے ماتحت نہیں ہے۔ آئینی اور ریگولر مقدمات کو یکجا چلانے سے پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، اس لیے کلب شدہ مقدمات کو فوری طور پر الگ الگ فورمز پر منتقل کیا جائے۔

فیصلے کے مطابق، اب آئینی نوعیت کے مقدمات اور آرٹیکل 199 کے تحت دائر درخواستوں کی اپیلیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی، جبکہ عام سول، ریگولر اپیلیں، کرایہ داری اور خاندانی تنازعات کے معاملات بدستور سپریم کورٹ کے دائرۂ اختیار میں رہیں گے۔ متضاد فیصلوں سے بچنے کے لیے دونوں اعلیٰ عدالتیں "عدالتی احترام" کے اصول کے تحت کام کریں گی۔ توہینِ عدالت کے حوالے سے بھی عدالت نے واضح کیا کہ جس فورم کے حکم کی خلاف ورزی ہوگی، کارروائی کا اختیار بھی اسی متعلقہ عدالت کے پاس رہے گا۔