تہران(رم نیوز) ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران امریکہ کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کے لیے واشنگٹن کو تمام پابندیاں ختم کرنا ہوں گی۔ صدر پزشکیان نے انکشاف کیا کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ دو بار مذاکرات کیے لیکن ہر بار واشنگٹن نے پیٹھ میں چھرا گھونپا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایک طرف بات چیت کرتا ہے اور دوسری طرف ایران پر پابندیاں اور فوجی دباؤ بڑھا دیتا ہے، جو کہ ناقابلِ قبول ہے۔
ایرانی صدر نے واضح کیا کہ خطے میں امن اور نئے مذاکرات صرف اسی صورت میں ممکن ہیں جب جنگ کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔آئندہ کسی بھی جارحیت نہ ہونے کی بین الاقوامی ضمانت دی جائے۔امریکی بحری ناکہ بندی، جس نے علاقائی استحکام کو داؤ پر لگا دیا ہے، فوری ختم کی جائے۔ متحدہ عرب امارات پر حملوں کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ ایران کسی خفیہ کارروائی پر یقین نہیں رکھتا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا، "ایران جو بھی فوجی کارروائی کرتا ہے، اس کا باقاعدہ اعلان کرتا ہے۔ تہران کی جانب سے یہ سخت موقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات پائے جا رہے ہیں۔