راولپنڈی (رم نیوز) فضائی دفاع کے ماہرین کے مطابق، جدید جنگی میدان میں وہی طیارہ فاتح ٹھہرتا ہے جو دشمن کی نظروں سے بچنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ففتھ جنریشن طیاروں کو روایتی جہازوں سے ممتاز کرنے والی سب سے اہم خصوصیت ان کی ’سٹیلتھ‘ ٹیکنالوجی ہے، جو انہیں ریڈار پر تقریباً نامرئی بنا دیتی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق ان طیاروں کی ساخت ایسی رکھی جاتی ہے جو ریڈار کی لہروں کو واپس بھیجنے کے بجائے مختلف سمتوں میں منتشر کر دیتی ہے۔ اس سے طیارے کا 'ریڈار کراس سیکشن' کم ہو جاتا ہے اور ریڈار سسٹم اسے پہچاننے میں ناکام رہتا ہے۔ طیارے کی باڈی پر دھات کے بجائے خاص کمپوزٹ میٹیریل اور ایسا پینٹ استعمال کیا جاتا ہے جو ریڈار سگنلز کو منعکس کرنے کے بجائے اپنے اندر جذب کر لیتا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق ففتھ جنریشن طیاروں کے میزائل اور ایندھن کے ٹینک باہر لٹکنے کے بجائے طیارے کے اندرونی خانوں میں چھپے ہوتے ہیں۔ اگر یہ ہتھیار باہر ہوں تو ریڈار لہریں ان سے ٹکرا کر طیارے کی موجودگی ظاہر کر دیتی ہیں۔ جدید انجن اور کولنگ سسٹمز کے ذریعے طیارے سے نکلنے والی حرارت کو اس حد تک کم کر دیا جاتا ہے کہ دشمن کے 'تھرمل کیمرے' اور ہیٹ سیکنگ میزائل اسے ٹریس نہیں کر پاتے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سٹیلتھ صلاحیت، غیر معمولی چابکدستی اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کا امتزاج ففتھ جنریشن طیاروں کو دنیا کا خطرناک ترین دفاعی ہتھیار بناتا ہے، جنہیں جدید ترین ریڈارز کے ذریعے بھی نشانہ بنانا ایک کٹھن چیلنج ہے۔