'اب یا کبھی نہیں': ٹرمپ کا ایران کے خلاف حتمی عسکری کارروائی کا اشارہ، ہنگامی اجلاس طلب

واشنگٹن(رم نیوز) خطہ عرب اور خلیج میں تناؤ کی لہر شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل کو "بیکار" قرار دیتے ہوئے آج قومی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے، جس میں تہران کے خلاف سخت ترین فوجی آپشنز کی منظوری دیے جانے کا قوی امکان ہے۔ امریکی ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایرانی قیادت کی جانب سے موصول ہونے والی نئی تجاویز کو ایک بار پھر "احمقانہ اور غیر سنجیدہ" قرار دے کر ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا ہے۔ صدر کا کہنا ہے کہ "جنگ بندی اب وینٹی لیٹر پر ہے" اور امریکہ مزید انتظار کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ انہوں نے دو ٹوک لفظوں میں واضح کیا کہ ایران کے جوہری مواد کی بازیافت صرف امریکہ اور چین ہی کر سکتے ہیں کیونکہ باقی دنیا کے پاس یہ صلاحیت موجود ہی نہیں۔ وائٹ ہاؤس میں ہونے والے اس اہم اجلاس میں جے ڈی وینس، مارکو روبیو اور پیٹ ہیگسیتھ سمیت "وار کونسل" کے ارکان شریک ہیں۔ اجلاس کے ایجنڈے میں افزودہ یورینیم کے ذخائر کو تباہ کرنے کے لیے اسرائیل کے تجویز کردہ "خصوصی آپریشن" کا جائزہ، آبنائے ہرمز میں ایرانی تیل کی ترسیل روکنے کے لیے بحری بیڑوں کی ازسرنو تعیناتی، ایران کے اندر موجود اہم فوجی مراکز پر سرجیکل اسٹرائیکس کی منصوبہ بندی شامل ہے۔