لندن(رم نیوز)برطانیہ میں بلدیاتی انتخابات میں حکمران لیبر پارٹی کی عبرتناک شکست نے وزیراعظم کیئر سٹارمر کی حکومت کوآئینی و سیاسی بحران میں دھکیل دیا ہے۔ کابینہ کے اہم ترین وزراء اور درجنوں ارکان پارلیمنٹ نے وزیراعظم کے خلاف محاذ کھولتے ہوئے ان سے فوری طور پر عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق وزیراعظم کی اپنی ٹیم ان پر اعتماد کھو چکی ہے۔ استعفے کا مطالبہ کرنے والوں میں نائب وزیراعظم ڈیوڈ لیمی، وزیر خارجہ ایویٹ کوپر اور وزیر داخلہ شبانہ محمود شامل ہیں، جنہوں نے وزیراعظم پر زور دیا ہے کہ وہ نئے پارٹی لیڈر کے انتخاب کے لیے واضح ٹائم لائن دیں۔ اسی بحران کے نتیجے میں آج ایک ہی روز میں 5 پارلیمانی سیکرٹریز نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے، جبکہ مزید وزراء کے مستعفی ہونے کا قوی امکان ہے۔
رپورٹ کے مطابق لیبر پارٹی کے 70 ارکانِ پارلیمنٹ اب تک وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ یاد رہے کہ نئے لیڈر کے انتخاب کی تحریک شروع کرنے کے لیے 81 ارکان کی حمایت درکار ہے، اور موجودہ صورتحال بتاتی ہے کہ وزیراعظم کی کرسی اب محض چند ووٹوں کے فاصلے پر ہے۔ شدید دباؤ کے باوجود وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے فی الحال پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ "الیکشن کے نتائج مشکل تھے، میں ان کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں لیکن میں کہیں نہیں جا رہا۔" حکومت کو سہارا دینے کے لیے انہوں نے مستعفی ہونے والے معاونین کی جگہ فوری طور پر مائیکل پین، لنزی فارن ورتھ اور ڈیوڈ برٹن سیمپسن سمیت دیگر ارکان کو نئی ذمہ داریاں سونپ دی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اپنی ہی کابینہ کے کلیدی ارکان کی مخالفت کے بعد کیئر اسٹارمر کے لیے حکومت چلانا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ برطانیہ میں آنے والے چند گھنٹے انتہائی اہم ہیں، جو یہ طے کریں گے کہ سٹارمر اپنی کرسی بچا پاتے ہیں یا برطانیہ ایک نئے وزیراعظم کے انتخاب کی طرف بڑھے گا۔