لاہور(رم نیوز) پنجاب حکومت نے صوبے میں جائیدادوں کی خریدو فروخت اور دستاویزات کے حصول کو محفوظ بنانے کے لیے بائیو میٹرک تصدیق کو لازمی قرار دے دیا ہے۔ اس سلسلے میں "رجسٹریشن ایکٹ 2026" کی دستاویزات حتمی منظوری کے لیے گورنر پنجاب کو ارسال کر دی گئی ہیں۔ پنجاب اسمبلی سے کثرتِ رائے سے منظور ہونے والے اس بل کے ذریعے 1908ء کے رجسٹریشن ایکٹ میں ترمیم کی گئی ہے۔ اب جائیداد کی رجسٹریشن اور منتقلی کے عمل کے دوران فریقین کی بائیو میٹرک تصدیق کو ایکٹ کا حصہ بنا دیا گیا ہے، جس کے بغیر کوئی بھی دستاویز قانونی طور پر تسلیم نہیں کی جائے گی۔
پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (PLRA) کو ایک نیا اور مربوط الیکٹرانک ریکارڈ سسٹم بنانے کی ذمہ داری دی گئی ہے تاکہ تمام ڈیٹا ڈیجیٹل اور محفوظ ہو۔ بائیو میٹرک کی شرط صرف زمینوں تک محدود نہیں ہوگی بلکہ ان تمام اشیاء پر لاگو ہوگی جن کی قانونی رجسٹریشن لازمی ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس اقدام سے فائل ورک میں ہونے والی دھوکہ دہی اور قبضہ مافیا کی مداخلت کا مکمل خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔ گورنر پنجاب کے دستخط ہوتے ہی یہ قانون پورے صوبے میں نافذ العمل ہو جائے گا، جس سے جائیداد کے اصلی مالکان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنے گا۔