اسلام آباد(رم نیوز) اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے بشریٰ بی بی سے اہلخانہ کی ملاقات اور ذاتی معالج تک رسائی کی درخواست پر فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ سماعت کے دوران بشریٰ بی بی کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی مؤکلہ بیمار ہیں اور ان کی سرجری بھی ہو چکی ہے، لیکن فروری سے اب تک انہیں فیملی سے ملنے نہیں دیا گیا اور قیدی تنہائی میں رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریم وٹو کے ٹویٹس کو بنیاد بنا کر ملاقاتوں پر پابندی لگانا غیر قانونی ہے، کیونکہ وہ خاتون پاکستان میں ہی موجود نہیں۔ دوسری جانب وفاقی حکومت کے وکیل (ایڈووکیٹ جنرل) نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ملاقات کی اجازت دینا جیل سپرنٹنڈنٹ کا اختیار ہے اور یہ سہولت قیدی کے رویے سے مشروط ہوتی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ملاقاتوں کی تفصیلات باہر پہنچا کر سوشل میڈیا کے ذریعے ملک میں خوف و ہراس پھیلایا جاتا ہے۔ عدالت نے دونوں اطراف کے دلائل مکمل ہونے پر سماعت ختم کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کر لیا۔
بشریٰ بی بی کی فیملی اور معالج سے ملاقات کا معاملہ،اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا