ہوانا(رم نیوز)امریکہ کی سخت بحری ناکہ بندی اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے اثرات کے باعث کیوبا کو تاریخ کے بدترین توانائی بحران کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں ملک کا بڑا حصہ مکمل تاریکی میں ڈوب گیا ہے۔ کیوبن حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ ملک میں پٹرول اور ڈیزل کے ذخائر مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں، جس سے بجلی کی پیداوار 1100 میگاواٹ تک گر گئی ہے۔ ملک کے بیشتر حصوں میں یومیہ 19 گھنٹے تک بجلی معطل ہے، جبکہ کئی علاقوں میں مسلسل کئی روز سے بلیک آؤٹ جاری ہے۔ ہوانا میں شہریوں نے شدید لوڈشیڈنگ اور خوراک کی قلت کے خلاف سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا اور حکومت سے بجلی کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔ صدر ٹرمپ نے ایران کے بعد اب کیوبا میں 'رجیم چینج' کا اشارہ دیا ہے، جبکہ کیوبا نے امریکی پابندیوں کو "توانائی کا محاصرہ" قرار دیا ہے۔ امریکہ نے 100 ملین ڈالر کی امداد کو کیتھولک چرچ کے ذریعے تقسیم کرنے سے مشروط کر دیا ہے، جس پر کیوبن حکومت غور کر رہی ہے۔ناکہ بندی کی وجہ سے صرف ایک روسی آئل ٹینکر ہی کیوبا پہنچ سکا ہے، جس کے باعث صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔
امریکی ناکہ بندی سے کیوبا میں ایندھن ختم، ملک تاریکی میں ڈوب گیا، عوامی احتجاج