ماسکو(رم نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہِ چین کے فوراً بعد روسی ایوانِ صدر (کریملن) نے صدر ولادیمیر پیوٹن کے بھی ہنگامی دورہِ چین کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اس اہم سفارتی پیش رفت نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا دنیا کے بڑے بلاکس بیجنگ میں کسی نئے تزویراتی معاہدے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان اب تک 40 سے زائد ملاقاتیں ہو چکی ہیں، جو ان کے درمیان مضبوط سیاسی اور دفاعی اعتماد کی عکاسی کرتی ہیں۔ گزشتہ برس ستمبر میں بھی دونوں رہنما بیجنگ میں ایک اہم ملاقات کر چکے ہیں۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پیوٹن کا یہ دورہ محض رسمی نہیں بلکہ اس کا وقت نہایت حساس ہے۔ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال، تجارتی تنازعات اور سیکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں یہ ملاقات عالمی سیاست کے رخ کا تعین کرے گی۔
عالمی طاقتوں کی بیجنگ پر نظر، امریکی صدر کے بعد پیوٹن کے دورہِ چین کا اعلان