لندن (رم نیوز) سائبر سکیورٹی کے عالمی شہرت یافتہ ادارے کاسپرسکی نے انٹرنیٹ صارفین کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ادارے کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں استعمال ہونے والے 68 فیصد پاس ورڈز اتنے کمزور ہیں کہ سائبر حملہ آور انہیں محض 24 گھنٹوں کے اندر توڑ سکتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ماہرین نے 2023 سے 2026 کے درمیان لیک ہونے والے 23 کروڑ 10 لاکھ سے زائد منفرد پاس ورڈز کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس تحقیق سے یہ تشویشناک حقیقت سامنے آئی ہے کہ صارفین کی جانب سے آسان الفاظ، عام نمبرز اور مخصوص علامات کا انتخاب ہیکرز کے لیے 'بروٹ فورس' حملوں کو انتہائی آسان بنا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہیکرز صارفین کی نفسیات اور ان کی عام عادات کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ تقریباً 53 فیصد پاس ورڈز ہندسوں پر ختم ہوتے ہیں جبکہ 17 فیصد ہندسوں سے شروع ہوتے ہیں۔ 10 فیصد پاس ورڈز میں صرف '@' کا استعمال کیا جاتا ہے، جو ہیکرز کے لیے اندازہ لگانا سب سے آسان ہے۔ انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والے الفاظ (جیسے ‘Skibidi’) کا استعمال گزشتہ برسوں میں 36 گنا بڑھ گیا ہے۔ بڑی تعداد میں لوگ ‘love’، ‘magic’ اور ‘angel’ جیسے الفاظ کو پاس ورڈ بناتے ہیں جو کہ سکیورٹی کے لحاظ سے انتہائی کمزور ہیں۔ تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جدید دور میں مصنوعی ذہانت پر مبنی الگورتھمز اتنے طاقتور ہو چکے ہیں کہ وہ 15 حروف پر مشتمل طویل پاس ورڈز کو بھی، اگر وہ کسی سادہ ترتیب میں ہوں، تو ایک منٹ سے بھی کم وقت میں ہیک کر سکتے ہیں۔ 8 حروف سے کم کے پاس ورڈز تو اب سکیورٹی کے نام پر محض ایک مذاق بن کر رہ گئے ہیں۔
ڈیٹا سائنس کے ماہر الیکسی انتونوف نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ پاس ورڈ میں غیر متوقع علامات (جیسے $، %، &) کا استعمال کریں۔نمبرز اور علامات کو پاس ورڈ کے شروع یا آخر کے بجائے درمیان میں رکھیں۔'1234' یا 'qwerty' جیسی کی بورڈ کی آسان ترتیب سے مکمل گریز کریں۔ کاسپرسکی کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اگرچہ بہت سی سروسز اب 10 حروف اور ایک بڑے حرف کی شرط عائد کرتی ہیں، لیکن صرف ان پر عمل کرنا کافی نہیں۔ مکمل تحفظ کے لیے پاس ورڈ کا غیر متوقع اور پیچیدہ ہونا لازمی ہے۔