پشاور (رم نیوز) جے یو آئی کے سابق رکن اسمبلی اور ممتاز عالمِ دین مولانا شیخ ادریس کے قتل کی تحقیقات میں بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ تفتیشی حکام نے مردان ریجن سے 7 اہم مبینہ ملزمان کو حراست میں لے لیا ہے، جن سے ٹارگٹ کلنگ کے نیٹ ورک کے حوالے سے تفتیش جاری ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے مبینہ ٹارگٹ کلر کی مکمل نقل و حرکت کا سراغ لگالیا گیا ہے۔
ملزم واقعے والے دن علی الصبح ساڑھے 5 بجے پشاور کے علاقے چمکنی سے موٹر سائیکل پر روانہ ہوا اور کوہاٹ روڈ سے ہوتا ہوا سروس روڈ کے ذریعے چارسدہ پہنچا۔ حکام چارسدہ سے ملزم کے فرار ہونے کی ویڈیو کا بھی باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اس کے سہولت کاروں تک رسائی ممکن ہو سکے۔ کیس کی گتھیاں سلجھانے کے لیے پشاور، چارسدہ اور نوشہرہ کے مختلف علاقوں کی جیوفینسنگ کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ تحقیقاتی ٹیموں کو سیف سٹی پراجیکٹ اور دیگر متعلقہ یونٹس کی تکنیکی معاونت حاصل ہے، جس کے ذریعے حملے میں ملوث دہشت گردوں کی شناخت اور مقام کا تعین کیا جارہا ہے۔
یاد رہے کہ 5 مئی کو چارسدہ میں نامعلوم دہشت گردوں نے مولانا شیخ ادریس کو فائرنگ کر کے شہید کر دیا تھا۔ اس لرزہ خیز واقعے پر جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے شدید ردعمل دیتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا اور ملک گیر احتجاج کی کال دی تھی۔ مفتی تقی عثمانی سمیت ملک کی دیگر جید مذہبی شخصیات نے بھی اس حملے کی شدید مذمت کی تھی۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے اہم انکشافات متوقع ہیں، جس کے بعد قتل کے اصل محرکات واضح ہو سکیں گے۔