پاکستان کا آفیشل بلیو پاسپورٹ کیا ہے اور یہ کن لوگوں کو جاری کیا جاتا ہے؟

اسلام آباد(رم نیوز) پاکستان میں ارکانِ پارلیمنٹ اور گریڈ 17 سے اوپر کے سرکاری ملازمین کو جاری کیے جانے والے آفیشل (بلیو) پاسپورٹ کی پالیسی میں اہم تبدیلیاں سامنے آئی ہیں، جبکہ سابق پارلیمنٹیرینز کو بھی یہ سہولت دینے کے لیے سینیٹ میں قانون سازی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ وزارتِ داخلہ کے حکام کے مطابق، ماضی میں گریڈ 17 سے اوپر کے افسران کو 5 سال کے لیے بلیو پاسپورٹ دیا جاتا تھا۔ تاہم، متعدد ملازمین کی جانب سے فیملی سمیت بیرونِ ملک مستقل رہائش اختیار کرنے اور بعد میں استعفیٰ دینے کے واقعات کے بعد پالیسی کا ازسرِ نو جائزہ لیا گیا ہے۔ اب سرکاری ملازمین کو صرف 6 ماہ کی معیاد کا پاسپورٹ جاری کیا جاتا ہے، البتہ گریڈ 21 اور 22 کے اعلیٰ افسران اس پابندی سے مستثنیٰ ہیں۔

ارکانِ پارلیمنٹ اور ان کے اہلخانہ کو سپیکر قومی اسمبلی یا چیئرمین سینیٹ کی منظوری سے 5 سال کے لیے بلیو پاسپورٹ جاری کیا جاتا ہے، تاہم ان کے پوتوں، پوتیوں یا نواسوں کو یہ حق حاصل نہیں۔ اگر اسمبلی اپنی مدت پوری نہ کر سکے تو ارکان کو یہ پاسپورٹ فوری واپس کرنا ہوتا ہے، بصورتِ دیگر ان کے نام 'سٹاپ لسٹ' میں ڈال دیے جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ اس پاسپورٹ پر اب 50 سے زائد ممالک کے لیے ویزہ فری سہولت دستیاب ہے۔ دوسری جانب سینیٹ کے اجلاس میں سینیٹر عبدالقادر نے ایک نیا ترمیمی بل پیش کیا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سابق ارکانِ پارلیمنٹ، ان کے شریکِ حیات اور بچوں کو بھی بلیو پاسپورٹ کی مستقل سہولت دی جائے۔ بل کے متن میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ اگر گریڈ 22 کے ریٹائرڈ وفاقی سیکریٹریز کو یہ مراعات حاصل ہو سکتی ہیں تو سابق پارلیمنٹیرینز کو بھی اس کا حق ملنا چاہیے۔