اسلام آباد(رم نیوز)پاکستان کی مچھلی اور فشریز مصنوعات کی برآمدات ملکی تاریخ میں پہلی بار 50 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں۔ وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے اسے بلیو اکانومی کے لیے ایک تاریخی کامیابی قرار دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت کا مقرر کردہ سالانہ ہدف مالی سال کے اختتام سے 46 روز قبل ہی حاصل کر لیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر کے مطابق، حکومتی اصلاحات کی بدولت پاکستانی سی فوڈ کو پہلی بار روس کی بڑی مارکیٹ تک رسائی ملی ہے جہاں 16 کمپنیوں کو برآمدات کی اجازت دی گئی ہے۔
جاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں برآمداتی مالیت میں 21.6 فیصد کا شاندار اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ چین 59 فیصد حصے کے ساتھ پاکستان کی سب سے بڑی سی فوڈ منڈی رہا جبکہ تھائی لینڈ، متحدہ عرب امارات اور جاپان کو بھی ریکارڈ برآمدات ہوئیں۔ اس کے علاوہ، امریکہ نے بھی پاکستانی سی فوڈ کے لیے برآمداتی مدت میں مزید 4 سال کی توسیع کر دی ہے۔ وفاقی وزیر نے مستقبل کے منصوبوں کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ کورنگی فشریز ہاربر میں 6 سے 8 کروڑ ڈالر کی لاگت سے 100 ایکڑ پر مشتمل جدید سی فوڈ پروسیسنگ اور ایکسپورٹ زون قائم کیا جا رہا ہے۔ اس جدید منصوبے کے مکل ہونے سے پاکستان کی سالانہ سی فوڈ برآمدات 80 کروڑ ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔