جنیوا(رم نیوز)عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کے تیزی سے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیشِ نظر اسے عالمی سطح پر پبلک ہیلتھ ایمرجنسی قرار دے دیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، کانگو کے مشرقی صوبے ایتوری سے اب تک اس موذی وبا کے تقریباً 246 مشتبہ کیسز اور 80 ہلاکتیں رپورٹ ہو چکی ہیں، جس نے عالمی طبی حکام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے انتباہ جاری کیا ہے کہ اگرچہ یہ صورتحال ابھی عالمی وبائی ایمرجنسی کے درجے تک نہیں پہنچی، لیکن اس بات کا نمایاں خطرہ موجود ہے کہ یہ بیماری موجودہ اندازوں سے کہیں بڑے پیمانے پر اور علاقائی سطح پر پھیل جائے۔
ادارے کے مطابق، ایبولا کی یہ موجودہ لہر 'بُنڈی بوگیو' وائرس کے باعث پھیل رہی ہے، جس کے علاج کے لیے اب تک کوئی منظور شدہ دوا یا ویکسین دستیاب نہیں ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایبولا سے متاثرہ شخص میں ابتدائی طور پر تیز بخار، پٹھوں میں درد، تھکن، سر درد اور گلے میں خراش جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں، جو بعد میں قے، اسہال، جلد پر خارش اور جسم سے خون بہنے جیسی تشویشناک صورتحال اختیار کر لیتی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہنگامی اقدامات پر زور دیا ہے۔