واشنگٹن(رم نیوز)امریکی بحریہ کا حادثے کا شکار ہونے والا 'ای اے 18 جی گراؤلر' الیکٹرانک جنگ کے لیے تیار کیا گیا ایک جدید ترین طیارہ ہے۔ اس کا بنیادی کام حریف کے ریڈار، مواصلاتی نظام اور فضائی دفاعی نیٹ ورک کو جام کر کے اپنے دیگر طیاروں اور افواج کو محفوظ راستہ فراہم کرنا ہے۔ امریکی بحریہ کے مطابق، اس طیارے کی تیاری کا آغاز 2004 میں ہوا اور اس نے پہلی پرواز 2006 میں کی، جس کے بعد 2008 میں اسے فوج کے حوالے کیا گیا۔ یہ جدید طیارہ پہلی بار 2011 میں لیبیا آپریشن کے دوران استعمال کیا گیا، جبکہ ایران کے خلاف امریکی کارروائی (ایپک فیوری) کے دوران طیارہ بردار بحری جہاز 'یو ایس ایس ابراہم لنکن' پر بھی اس کی موجودگی ریکارڈ کی گئی تھی۔
حادثے کا شکار ہونے والا امریکی 'ای اے 18 جی گراؤلر' طیارہ کیا ہے؟ جنگی خصوصیات سامنے آ گئیں