اسلام آباد(رم نیوز) ملک میں 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے۔ وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کے مطابق این ایف سی ایوارڈ، آبادی، پانی کی تقسیم اور ووٹر کی عمر جیسے بنیادی قومی امور پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں، تاہم وسیع تر اتفاقِ رائے کے بعد ہی کوئی ترمیم لائی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بعض حلقے صدارتی نظام کی بات کرتے ہیں لیکن پاکستان کے لیے پارلیمانی نظام ہی موزوں ہے۔ دوسری طرف، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آئینی ترامیم کے سلسلے میں ان سے کوئی رسمی یا غیر رسمی مشاورت نہیں کی گئی اور پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر کوئی بھی ترمیم منظور نہیں ہو سکتی۔ پی پی پی رہنما قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ یہ بحث ابھی انفرادی سطح پر ہے، حکومت جب کوئی باقاعدہ تجویز لائے گی تو اس پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔
28ویں آئینی ترمیم کی بازگشت،این ایف سی، ووٹر کی عمر اور حکومتی تجاویز پر بحث تیز