عالمی ہیلتھ ایمرجنسی کا سبب بننے والا ’ایبولا وائرس‘ کیا ہے اور یہ کیسے پھیلتا ہے؟ طبی ماہرین کی اہم رپورٹ

جنیوا(رم نیوز)عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے جمہوریہ کانگو میں ایبولا کے پھیلاؤ کو بین الاقوامی پبلک ہیلتھ ایمرجنسی قرار دیے جانے کے بعد، اس موذی وائرس کی منتقلی اور علامات کے حوالے سے اہم طبی حقائق سامنے آئے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق، ایبولا ایک نایاب لیکن انتہائی شدید نوعیت کی جان لیوا بیماری ہے جو وائرس کے ذریعے پھیلتی ہے۔ طبی رپورٹ کے مطابق، یہ وائرس ابتدائی طور پر متاثرہ جنگلی جانوروں، بالخصوص پھل کھانے والی چمگادڑوں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔

انسانوں کے درمیان یہ وائرس ہوا کے بجائے مریض کے خون، قے، اور دیگر جسمانی رطوبتوں کے براہِ راست رابطے میں آنے سے ایک سے دوسرے فرد میں منتقل ہوتا ہے۔ وائرس کا شکار ہونے کے بعد مریض میں علامات ظاہر ہونے میں 2 سے 21 دن کا وقت لگ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایبولا کی ابتدائی علامات فلو جیسی ہوتی ہیں، جن میں اچانک تیز بخار، سر درد اور شدید تھکن شامل ہے۔ مرض کی شدت بڑھنے پر مریض کو قے اور اسہال شروع ہو جاتے ہیں جبکہ جسم کے اندرونی اعضاء ناکارہ ہونے لگتے ہیں، جس کے بعد بعض مریضوں کے جسم سے اندرونی اور بیرونی خون بہنے لگتا ہے۔

تشویشناک بات یہ ہے کہ اس وقت پھیلنے والی ایبولا کی خطرناک قسم 'بنڈی بوجیو' کے خلاف تاحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا دوا دستیاب نہیں ہے، جبکہ ماضی میں اس قسم سے متاثرہ 30 فیصد مریض ہلاک ہو چکے ہیں۔