نیروبی (رم نیوز) کینیا میں ایندھن کی قیمتوں میں 20 فیصد کے ریکارڈ اضافے کے بعد شروع ہونے والا احتجاج پرتشدد رخ اختیار کر گیا ہے، جس کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمت 1.8 ڈالر فی لیٹر مقرر کیے جانے پر ٹرانسپورٹرز نے ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کر دی ہے، جس سے کاروباری مراکز بند اور سکول آن لائن کلاسز پر منتقل ہو گئے ہیں۔ وزیر داخلہ کے مطابق ہنگامہ آرائی کے الزام میں 348 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ کینیا کے حکام کا کہنا ہے کہ خلیج کے خطے میں جاری امریکا، اسرائیل اور ایران تنازع کے باعث ملک کو ایندھن کی سپلائی چین میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
قیمتوں میں ریکارڈ اضافے پر کینیا میں پرتشدد مظاہرے؛ 4 افراد ہلاک، ملک گیر ہڑتال سے نظامِ زندگی معطل