تہران(رم نیوز)ایران اور امریکہ کے درمیان پسِ پردہ سفارتی مذاکرات میں تیزی آئی ہے، جہاں تہران نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی، منجمد اثاثوں کی بحالی اور ایرانی بحری جہازوں کے تحفظ کے مطالبات امریکہ کے سامنے رکھ دیے ہیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق، مذاکرات میں بعض معاملات پر فاصلے کم ہوئے ہیں تاہم اعتماد کی فضا تاحال پوری طرح بحال نہیں ہوسکی۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا کی اولین ترجیح ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ہے، جبکہ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے معاملات تاحال دونوں ممالک کے درمیان اہم رکاوٹیں بنے ہوئے ہیں۔