ممبئی (رم نیوز)'کاکروچ جنتا پارٹی' دراصل بھارت میں بے روزگاری، مہنگائی اور سیاسی نظام سے پریشان نوجوانوں کی ایک طنزیہ اور احتجاجی ڈیجیٹل تحریک ہے، جو سوشل میڈیا پر ایک باقاعدہ مہم کی شکل اختیار کر چکی ہے۔یہ کوئی روایتی سیاسی جماعت نہیں ہے، بلکہ بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے ایک متنازع بیان کے خلاف نوجوانوں کے شدید غم و غصے اور احتجاج کا نتیجہ ہے۔
چند روز قبل بھارتی سپریم کورٹ میں ایک سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریا کانت نے سوشل میڈیا پر حکومت پر تنقید کرنے والے بے روزگار نوجوانوں کو 'کاکروچ' (کیڑے مکوڑوں) سے تشبیہ دی تھی اور کہا تھا کہ یہ نظام پر حملہ آور ہوتے ہیں۔اس بیان کو بھارتی نوجوانوں نے اپنی سخت توہین سمجھا۔ اس توہین کے جواب میں 30 سالہ نوجوان ابھیجیت دیپکے نے طنزیہ انداز میں 'کاکروچ جنتا پارٹی' کے نام سے ایک مہم شروع کر دی تاکہ وہ نظام کو نوجوانوں کی طاقت کا احساس دلا سکیں۔ اس تحریک کو سوشل میڈیا پر اس قدر والہانہ پذیرائی ملی ہے کہ محض چند ہی دنوں میں اس کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد 11 ملین (1 کروڑ 10 لاکھ) سے تجاوز کر گئی، جو کہ بھارت کی مقتدر اور دنیا کی بڑی سیاسی جماعتوں میں شامل 'بھارتی جنتا پارٹی' (8.8 ملین فالوورز) سے بھی زیادہ ہے۔
اس مہم کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باعث حکومتِ بھارت کی جانب سے اس کے 'ایکس' (ٹویٹر) اکاؤنٹ کو ملک کے اندر عارضی طور پر بلاک کر دیا گیا ہے، جس نے اس تحریک کو مزید بحث کا مرکز بنا دیا ہے۔ مختصر یہ کہ، 'کاکروچ جنتا پارٹی' اس وقت بھارت میں آئینی عہدیداروں کی سوچ اور نوجوانوں کے حقوق و اظہارِ رائے کی آزادی کے درمیان جاری ایک بڑی ڈیجیٹل جنگ کی علامت بن چکی ہے۔