اسلام آباد (رم نیوز) وزیراعظم محمد شہباز شریف کے دورہ چین کا مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے، جس میں پاکستان اور چین نے ہر موسم کی سٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کرنے اور 'سی پیک 2.0' کے تحت اعلیٰ معیار کی معاشی ترقی کو تیز کرنے پر مکمل اتفاق کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے 23 سے 26 مئی 2026 تک چین کا سرکاری دورہ کیا، جہاں انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ اور ہم منصب لی چیانگ سے تفصیلی مذاکرات کیے۔ مشترکہ اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے بنیادی قومی مفادات کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔
پاکستان نے 'ایک چین پالیسی' اور تائیوان، سنکیانگ و ہانگ کانگ پر چین کے موقف کی تائید کی، جبکہ چین نے پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے مستقل تعاون دہرایا۔ اعلامیے میں شاہراہِ قراقرم (تھاکوٹ۔رائیکوٹ ری الائنمنٹ) کو مرحلہ وار مکمل کرنے اور گوادر پورٹ کو علاقائی رابطہ مرکز بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں ممالک صنعتی پارکس، ٹیکسٹائل، معدنیات اور تیل و گیس کی تلاش میں تعاون بڑھائیں گے۔ زراعت کے شعبے میں چینی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے گی جبکہ چین 2029 تک پاکستانیوں کے لیے 3,000 تربیتی مواقع فراہم کرے گا۔
خلائی تعاون میں تاریخی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ چین دو پاکستانی خلا بازوں کو تربیت دے رہا ہے، اور امید ہے کہ ایک پاکستانی خلا باز جلد چینی خلائی اسٹیشن کا سفر کرنے والا پہلا غیر ملکی خلا باز بنے گا۔ اس کے علاوہ، خطے میں امن و استحکام کے لیے انسدادِ دہشت گردی اور فوجی تعاون کو مزید مضبوط کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا گیا۔