اسلام آباد(رم نیوز)اسلام آباد ہائیکورٹ نے بیرونِ ملک سفری پابندیوں کے خلاف دائر درخواست پر بڑا فیصلہ سناتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ کسی دوسرے ملک سے صرف اوور سٹے (مقررہ مدت سے زائد قیام) کی بنیاد پر ڈی پورٹ ہونا، کسی شہری پر سفری پابندی عائد کرنے کا جواز نہیں بن سکتا۔ جسٹس محمد آصف نے کیس کا چار صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے متاثرہ شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم دے دیا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ سفری پابندی عائد کرنے کے لیے کسی باقاعدہ جرم، سیکیورٹی خدشے یا ناقابلِ تردید ثبوت کا ہونا ضروری ہے۔ کسی جرم کے بغیر شہری کے بیرونِ ملک سفر اور روزگار کے حق پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ ہائیکورٹ کے مطابق، شہریوں کا نام اس طرح سفری پابندی کی فہرست میں ڈالنا آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 4، 9، 10-A، 15، 18 اور 25 کی صریح خلاف ورزی ہے، جو شہریوں کو نقل و حرکت اور روزگار کی آزادی دیتے ہیں۔
کیس کی سماعت کے دوران وفاقی حکومت نے موقف اپنایا تھا کہ شہری خلیجی ملک سے اوور اسٹے کے باعث ڈی پورٹ ہوا تھا، اور ملکی وقار سمیت دیگر پاکستانیوں کے ویزوں کے تحفظ کے لیے پالیسی کے تحت اس کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا گیا۔ تاہم، عدالت نے حکومتی پالیسی کو آئینی حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا۔