واشنگٹن(رم نیوز)ایران کا سب سے بڑا جزیرہ 'قشم' حالیہ علاقائی کشیدگی کے باعث ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، اور اپنی منفرد جغرافیائی پوزیشن کے باعث امریکی بحری و فوجی حکمتِ عملی کے اہم ترین اہداف میں شمار کیا جا رہا ہے۔ قشم جزیرہ عالمی معیشت کی شہ رگ کہلانے والی آبی گزرگاہ 'آبنائے ہرمز' کے بالکل دہانے پر واقع ہے۔
دنیا بھر میں تیل اور گیس کی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، جس پر قشم سے مکمل نظر رکھی جا سکتی ہے۔ عسکری ماہرین کے مطابق ایران نے اس جزیرے کے اندر وسیع زیرِ زمین سرنگیں، مضبوط بنکرز اور خفیہ فوجی اڈے قائم کر رکھے ہیں جنہیں 'میزائل سٹیز' کہا جاتا ہے۔ یہاں جدید ساحلی میزائل اور تیز رفتار حملہ آور کشتیاں تعینات ہیں۔
دفاعی تجزیہ کار اس جزیرے کو ایران کا ایک ایسا 'طیارہ بردار جہاز' قرار دیتے ہیں جسے کبھی ڈبویا نہیں جا سکتا اور یہ خلیج فارس میں ایران کی بحری طاقت کا محور ہے۔ امریکہ کا ماننا ہے کہ قشم پر موجود یہ عسکری ڈھانچہ آبنائے ہرمز میں عالمی جہاز رانی کو متاثر کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، جس سے دنیا بھر میں توانائی کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ یہ تنصیبات اس کے دفاعی نظام کا قانونی حصہ ہیں۔ ماہرین کے مطابق خطے میں کسی بھی ممکنہ تصادم کی صورت میں یہ جزیرہ سب سے حساس مقام ثابت ہوگا۔