گلگت(رم نیوز)گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات 2026 میں خواتین ووٹرز کی تعداد بڑھ گئی ہے جس کے بعد انتخابی دنگل میں ان کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ متعدد حلقوں میں مرد اور خواتین ووٹرز کی تعداد میں معمولی فرق کے باعث اب خواتین انتخابی نتائج پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
حالیہ اعداد و شمار کے مطابق خطے میں خواتین ووٹرز کی مجموعی تعداد 4 لاکھ 54 ہزار 480 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ کم از کم پانچ حلقوں میں خواتین ووٹرز ہار اور جیت کا فیصلہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔ انتخابی ڈیٹا کے مطابق 'دیامر-1' کو اس وقت سب سے منفرد حلقہ قرار دیا جا رہا ہے جہاں مرد اور خواتین ووٹرز کی تعداد تقریباً برابر ہو چکی ہے۔ اس حلقے میں مرد ووٹرز کی تعداد 22 ہزار 269 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 22 ہزار 257 ہے، یعنی دونوں کے درمیان صرف 12 ووٹوں کا معمولی فرق موجود ہے۔ دوسری جانب 'گلگت-2' میں مرد ووٹرز کی تعداد خواتین کے مقابلے میں 3 ہزار 829 زیادہ ہے، تاہم اس حلقے میں بھی رجسٹرڈ خواتین ووٹرز کی تعداد 26 ہزار 10 ہے جو نتائج بدلنے کے لیے کافی ہے۔
انتخابی ماہرین کا کہنا ہے کہ گلگت-2، ہنزہ، غذر-2، گلگت-3 اور اسکردو-2 ایسے حلقے ہیں جہاں خواتین ووٹرز کی تعداد بڑھنے سے وہ نتائج پر فیصلہ کن اثر ڈال سکتی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق ہنزہ میں خواتین ووٹرز کی تعداد 25 ہزار 588، غذر-2 میں 24 ہزار 945، گلگت-3 میں 24 ہزار 810 اور اسکردو-2 میں 24 ہزار 346 ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ان انتخابات میں نہ صرف خواتین ووٹرز کا وزن بڑھا ہے بلکہ ان کی عملی سیاسی شرکت بھی نمایاں ہے۔ اس بار مختلف حلقوں سے 8 خواتین امیدوار مردوں کے مقابلے میں اپنی قسمت آزما رہی ہیں، جو گلگت بلتستان کے انتخابی عمل میں خواتین کی بڑھتی ہوئی نمائندگی اور سیاسی شعور کی واضح عکاسی کرتا ہے۔