اسلام آباد(رم نیوز) وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کا تزویراتی محل وقوع اور بحری شعبہ بندرگاہوں، لاجسٹکس، بلیو اکانومی اور انفرااسٹرکچر کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے انتہائی پرکشش اور وسیع مواقع فراہم کرتا ہے۔ یہ بات انہوں نے پاکستان،سعودی عرب مشترکہ بزنس کونسل (جے بی سی) کے چیئرمین منصور بن محمد السعود اور دیگر ارکان کے ساتھ منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی آن لائن اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے نمائندوں، پاکستان کے تمام بڑے پورٹس کے چیئرمینز اور سعودی عرب میں متعین پاکستانی سفیر نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کے دوران سعودی سرمایہ کاروں کو پاکستان کی مختلف بندرگاہوں پر جاری اہم منصوبوں میں سرمایہ کاری کی باقاعدہ دعوت دی گئی۔
وفاقی وزیر اور پورٹ حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کراچی پورٹ پر 140 ایکڑ ساحلی اراضی پر محیط میری ٹائم بزنس ڈسٹرکٹ، میرین ورکشاپ اور منوڑہ ڈرائی ڈاک منصوبے سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں۔ مزید برآں، پورٹ قاسم پر بوٹ (BOT) کی بنیاد پر کثیر المقاصد کارگو ٹرمینل، مربوط آئل ٹرمینل اور انرجی سٹی، جبکہ کورنگی فش ہاربر میں 100 ایکڑ پر ایکوا ریسرچ اینڈ ٹیکنالوجی پارک کے منصوبے زیرِ غور ہیں۔
وفاقی وزیر محمد جنید انوار چوہدری نے دونوں ممالک کے دیرینہ اور برادرانہ تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے 'وژن 2030' اور پاکستان کی معاشی ترجیحات کے تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تزویراتی شراکت داری کو مزید فروغ دینے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔