تہران، واشنگٹن(رم نیوز) مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست فوجی تصادم کے بعد صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔ امریکی فوج (سینٹ کام) نے آج صبح سویرے ایران کے علاقوں گوروک اور جزیرہ قشم میں ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ امریکہ کے مطابق یہ کارروائی ایرانی ڈرونز کو مار گرانے اور بحری راستوں کے تحفظ کے لیے کی گئی۔ جواب میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خطے میں امریکی فضائی اڈوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا اور بغیر اجازت گزرنے والے 4 آئل ٹینکروں پر فائرنگ کی۔
ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکی کارروائیاں نہ رکیں تو وہ 'آبنائے ہرمز' کو مکمل بند کر دے گا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ایران کے داغے گئے 7 میزائلوں میں سے 6 کو روک لیا گیا اور کوئی امریکی نقصان نہیں ہوا۔ اس دوران جنگ کے اثرات خلیجی ممالک تک پھیل گئے ہیں؛ کویت کا فضائی دفاعی نظام متحرک ہو کر حملہ آور میزائلوں اور ڈرونز کو روک رہا ہے، جبکہ بحرین میں شدید فضائی انتباہ جاری کرتے ہوئے خطرے کے سائرن بجا دیے گئے ہیں۔