اسلام آباد(رم نیوز) وفاقی حکومت نے ٹیکس چوری اور انڈر انوائسنگ کے خاتمے کے لیے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں روزمرہ استعمال کی 20 اہم کیٹیگریز کو سیلز ٹیکس ایکٹ کے 'تھرڈ شیڈول' میں شامل کرنے کی تجویز تیار کر لی ہے، جس سے قومی خزانے کو سالانہ 60 ارب روپے کا اضافی ریونیو ملے گا۔ اس نئے قانون کے تحت مینوفیکچررز کے لیے مصنوعات کی پیکنگ پر ہی خوردہ قیمت اور وصول کیے جانے والے ٹیکس کی رقم واضح چھاپنا لازمی ہوگا۔ مجوزہ فہرست میں ڈبہ بند دودھ، دہی، پنیر، بچوں کے دلیے اور فروزن فوڈز سمیت ٹوتھ پیسٹ، شیونگ کریم اور پالتو جانوروں کی خوراک شامل ہے۔ اس کے علاوہ الیکٹرانکس مصنوعات جیسے ٹی وی، فریج، اے سی، واشنگ مشینیں اور گھریلو گیس آلات (چولہے، گیزر) بھی اس دائرے میں آئیں گے۔ اس اقدام کا مقصد ٹیکس وصولی کے نظام کو شفاف بنانا ہے، تاہم حتمی فیصلہ بجٹ کی منظوری کے بعد ہی سامنے آئے گا۔
آئندہ بجٹ میں ٹیکس چوری کے خلاف سخت اقدامات، 20 بڑی مصنوعات پر قیمت اور سیلز ٹیکس کی تفصیلات لکھنا قانونی طور پر لازم کرنے پر غور