واشنگٹن (رم نیوز) امریکی وفاقی عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کو بڑا جھٹکا دیتے ہوئے ایچ ون بی (H-1B) ویزا پر عائد کی گئی ایک لاکھ ڈالر کی بھاری فیس کو غیر قانونی قرار دے کر منسوخ کر دیا ہے۔ وفاقی جج لیو سوروکن نے 20 ریاستوں کے اٹارنی جنرلز کی آئینی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا کہ ویزا فیس کے نام پر لگائی گئی یہ رقم دراصل ایک غیر قانونی ٹیکس ہے، جس کی منظوری امریکی پارلیمنٹ (کانگریس) نے نہیں دی۔
جج نے اپنے فیصلے میں رولنگ دی کہ صدر کے پاس امیگریشن قوانین کے تحت ایسا کوئی ٹیکس لگانے کا اختیار نہیں ہے، چاہے اسے کوئی بھی نام دیا جائے۔ واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی شہریوں کی ملازمتوں کے تحفظ کا جواز بنا کر اس ویزا فیس کو دو سے پانچ ہزار ڈالر سے بڑھا کر ایک لاکھ ڈالر کر دیا تھا، جسے وائٹ ہاؤس نے قانونی جرمانہ قرار دیا تھا۔ عدالتی فیصلے پر وائٹ ہاؤس کی ترجمان ٹیلر روجرز نے کہا ہے کہ اس فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کی جائے گی، جبکہ دوسری طرف کیلیفورنیا کے اٹارنی جنرل روب بونٹا اور امریکی چیمبر آف کامرس نے اس فیصلے کو عالمی ہنرمندوں اور امریکی معیشت کی بڑی فتح قرار دیا ہے۔