نئے مالیاتی سال کا وفاقی بجٹ آج پیش کیا جائے گا: ٹیکس ہدف، تنخواہوں اور ریلیف کی تفصیلات سامنے آ گئیں

اسلام آباد(رم نیوز)وفاق کی جانب سے آئندہ مالی سال کا 17 ہزار ارب روپے کا بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جا رہا ہے، جس سے قبل وفاقی کابینہ اس کی حتمی منظوری دے گی۔ نئے بجٹ میں جہاں ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا امکان ہے، وہاں تنخواہ دار طبقے کو 50 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف دینے کے لیے انکم ٹیکس سلیب کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کرنے کی تجویز ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق ٹیکس وصولیوں کا ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے سب سے بڑی رقم یعنی 7 ہزار 824 ارب اور ملکی دفاع کے لیے 3 ہزار ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔ معاشی دباؤ کے باعث دفاع اور وزارتِ داخلہ کے سوا کوئی نیا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بجٹ میں سولر پینل، سٹیشنری اور ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس کی شرح برقرار رکھی جائے گی، تاہم درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 25 فیصد تک بڑھانے، کرپٹو ٹریڈنگ کے منافع پر پہلی بار گین ٹیکس لگانے اور بچوں کے فارمولا دودھ، گھی و کوکنگ آئل پر ٹیکسز کی وجہ سے قیمتیں بڑھنے کا امکان ہے۔