اسلام آباد (رم نیوز) وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال 27-2026 کے لیے 18 ہزار 771 ارب روپے حجم کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا ہے، جس میں سرکاری ملازمین، تنخواہ دار طبقے اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے بڑے ریلیف کا اعلان کیا گیا ہے۔ بجٹ تقریر کے مطابق، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ کم از کم ماہانہ اجرت کو 10 فیصد بڑھا دیا گیا ہے۔ وزیر خزانہ نے تنخواہ دار طبقے کو بڑی خوشخبری سناتے ہوئے مختلف انکم سلیبز پر ٹیکس کی شرح میں نمایاں کمی کا اعلان کیا۔ سالانہ 22 سے 32 لاکھ روپے کمانے والوں کے لیے ٹیکس 23 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد، جبکہ 41 سے 56 لاکھ روپے آمدن پر ٹیکس 35 فیصد سے گھٹا کر 29 فیصد کر دیا گیا ہے۔ مزید برآں، 6 اہم سلیبز پر سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
تعمیراتی صنعت اور رئیل اسٹیٹ کو فروغ دینے کے لیے حکومت نے فائلرز کی جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح 5.5 فیصد سے آدھی کر کے 2.75 فیصد کر دی ہے، جس سے سیمنٹ، لوہے اور پینٹ سمیت 40 سے زائد صنعتوں کو فائدہ پہنچے گا۔ اس کے علاوہ، ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ کی بین الاقوامی ٹرانزیکشنز پر ٹیکس 5 فیصد سے یکمشت کم کر کے 0.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ دفاعی بجٹ میں 18 فیصد اضافے کے ساتھ ملکی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے 3 ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ وفاق کے ترقیاتی پروگرام (PSDP) کے لیے 1 ہزار 100 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ سماجی تحفظ کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کا بجٹ بڑھا کر 838 ارب روپے کر دیا گیا ہے جس سے 1 کروڑ 20 لاکھ خاندان مستفید ہوں گے۔
معاشی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ملک کی معاشی شرح نمو 3.7 فیصد تک پہنچ چکی ہے اور معیشت کا کل حجم 452 ارب ڈالر کے سنگ میل کو عبور کر گیا ہے۔ فی کس آمدن بڑھ کر 1901 ڈالر ہو گئی ہے، جبکہ پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر 11.5 فیصد پر آ گیا ہے۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ نجکاری کا وعدہ پورا کرتے ہوئے پی آئی اے کو 185 ارب روپے کے عوض نجی شعبے کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ نئے بجٹ کی بنیادی ترجیحات میں ٹیکسوں کا بوجھ بڑھانے کے بجائے انفورسمنٹ کے ذریعے آمدن بڑھانا، پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور آئی ٹی و زراعت کا فروغ شامل ہے۔