اسلام آباد (رم نیوز)وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے معاشی ٹیم کے ہمراہ پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ پاکستان ڈیفالٹ کے خطرات سے نکل کر اب پائیدار معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نئے بجٹ کا بنیادی محور برآمدات میں اضافہ، ٹیکس نظام کی ڈیجیٹائزیشن اور کاروباری برادری کا اعتماد بحال کرنا ہے۔ کسانوں کے لیے 'ذرخیزی اسکیم' متعارف کرواتے ہوئے زرعی مشینری اور آلات پر تمام کسٹم اور ریگولیٹری ڈیوٹیز کو مکمل طور پر ختم (زیرو) کر دیا گیا ہے، جبکہ زرعی قرضوں کا حجم 20 ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔
آئی ٹی برآمدات کا ہدف 4.5 ارب ڈالر مقرر کیا گیا ہے۔ آئی ٹی انڈسٹری اور فری لانسرز کے لیے پرانا ٹیکس نظام برقرار رکھا گیا ہے، جبکہ تمام ایکسپورٹرز کے لیے سپر ٹیکس مکمل ختم کر دیا گیا ہے۔ وزیر مملکت برائے خزانہ بلال کیانی نے بتایا کہ سالانہ 6 لاکھ روپے تک کمانے والے ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گے، جبکہ 6 سے 12 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر صرف 1 فیصد ٹیکس ہوگا۔ مڈل کلاس کے لیے "اپنا گھر ہاؤسنگ اسکیم" لائی گئی ہے اور بی آئی ایس پی (BISP) کے بجٹ میں 17 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی زیرِ نگرانی ایف بی آر سے سفارش کلچر ختم کر کے اسے ڈیجیٹل کیا جا رہا ہے۔ ٹیکس چوری روکنے کے لیے شوگر اور سیمنٹ انڈسٹری سے مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا ہے، کیونکہ ملک کی غربت صرف برآمدات بڑھانے سے ہی ختم ہو سکتی ہے۔ وزیر خزانہ نے مشکل وقت میں تعاون کرنے پر صوبوں کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ پالیسیوں کے تسلسل سے مقامی اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد تیزی سے بحال ہوگا۔