پنجاب کا 5903 ارب روپے کا بجٹ پیش؛ تنخواہوں اور پنشن میں اضافے سمیت گاڑیوں پر ٹوکن ٹیکس تین گنا بڑھانے کی تجویز

لاہور(رم نیوز)پنجاب حکومت نے مالی سال 27-2026 کے لیے 5 ہزار 903 ارب روپے حجم کا ٹیکس فری بجٹ صوبائی اسمبلی میں پیش کر دیا ہے، جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اور پنشن میں 3.5 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ بجٹ اجلاس اسپیکر ملک محمد احمد خان کی صدارت میں شدید ہنگامہ آرائی اور اپوزیشن کے احتجاج کے دوران منعقد ہوا، جس میں وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف بھی شریک ہوئیں۔

بجٹ میں سخت کفایت شعاری پالیسی کے تحت صوبائی کابینہ اور سیکرٹریز کی 3 ماہ کی تنخواہیں نہ لینے، اراکینِ اسمبلی کی تنخواہوں میں 25 فیصد کٹوتی اور سرکاری گاڑیوں کے استعمال میں 60 فیصد کمی کا اعلان کیا گیا ہے۔ ترقیاتی و عوامی منصوبوں کے لیے خطیر فنڈز مختص کیے گئے ہیں، جن میں امن و امان کے لیے 252 ارب، ٹرانسپورٹ کے لیے 78.5 ارب، صفائی مہم (ستھرا پنجاب) کے لیے 170 ارب، اور نوجوانوں کی آئی ٹی و فنی تربیت کے منصوبوں کے لیے 80 ارب روپے سے زائد کی رقم شامل ہے۔

کسانوں کی معاونت کے لیے 'کسان کارڈ' کے تحت 10 ارب اور کم آمدن والے خاندانوں کے لیے 'سوشل سیکیورٹی راشن کارڈ' کے لیے 40 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب، صوبائی ریونیو میں اضافے کے لیے گاڑیوں کے سالانہ ٹوکن ٹیکس میں تین گنا تک بھاری اضافے اور رجسٹریشن پر ودہولڈنگ ٹیکس بڑھانے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ اب گاڑی کی رجسٹریشن کے بغیر اس کی ڈیلیوری ممکن نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ پراپرٹی ٹیکس کی مینول ادائیگی کو مکمل ختم کر کے اسے صرف الیکٹرانک نظام کے تحت لازمی قرار دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔