واشنگٹن(رم نیوز)بوئنگ بی 52 سٹریٹو فورٹریس (B-52 Stratofortress)، جسے بیسویں صدی کا سب سے زیادہ خطرناک بمبار طیارہ سمجھا جاتا ہے، گزشتہ سات دہائیوں سے امریکی فوجی طاقت کی علامت بنا ہوا ہے۔ 1950 کی دہائی سے امریکی فضائیہ کے زیر استعمال اس طیارے کو جزوی طور پر ’دی بف‘ (بڑا، بھدا اور موٹا) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ طیارہ اب تک امریکہ کی تین نسلوں کے پائلٹس اڑا چکے ہیں اور اس نے دنیا کی کئی بڑی جنگوں میں اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔ آٹھ انجنوں پر مشتمل اس دیو ہیکل بمبار طیارے کی جنگی تاریخ انتہائی طویل ہے۔ اس نے ویتنام کی جنگ، عراق کی دو جنگوں اور افغانستان کی جنگ میں تباہی مچانے کے ساتھ ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائیوں میں بھی بمباری میں حصہ لیا۔
سرد جنگ کے دوران اس طیارے نے امریکہ کے لیے ’جوہری چھتری‘ کا کردار ادا کیا تھا، جس نے دشمنوں کو بڑے حملوں سے باز رکھا۔ بی 52 بمبار طیارہ اپنی طاقت اور سائز کے لحاظ سے انتہائی اہم ہوتا ہے۔ اس کی چند تکنیکی خصوصیات درج ذیل ہیں۔ اس طیارے کی کل لمبائی 159 ف جبکہ اس کے پروں کا پھیلاؤ 185 فٹ ہے۔ یہ طیارہ 650 میل فی گھنٹہ کی تیز رفتار سے 50 ہزار فٹ کی بلندی تک پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ عام مسافر طیارے عموماً 35 ہزار فٹ تک ہی اڑتے ہیں۔
یہ اپنے ساتھ 70 ہزار پاؤنڈ کا بھاری بھرکم وزن اٹھا سکتا ہے۔ یہ سینکڑوں روایتی بموں کے ساتھ ساتھ 32 جوہری کروز میزائل لے کر اڑان بھرنے کی حیرت انگیز صلاحیت رکھتا ہے۔ اس طیارے کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ اسے ایندھن بھرنے کے لیے زمین پر اترنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یہ فضا میں ہی دوسرے طیارے سے ایندھن لے سکتا ہے، جس وجہ سے اس کی پرواز کی حد تقریباً لامحدود ہوتی ہے۔ اسی لیے کہاجاتا ہے کہ یہ طیارہ امریکہ سے اڑان بھر کر دنیا کے کسی بھی حصے میں سیکنڈوں میں بڑی کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔