کراچی(رم نیوز)وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی میں مالی سال 27-2026 کے لیے 3.562 کھرب روپے کا بجٹ پیش کر دیا ہے۔ بجٹ میں عوام اور کاروباری طبقے کو ریلیف دینے کے عزم کے تحت کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ صوبے میں کم از کم اجرت بڑھا کر 43 ہزار روپے مقرر کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ زرعی سپر ٹیکس کی شرح کم کر کے 8 فیصد کر دی گئی ہے۔سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حجم 400 ارب روپے رکھا گیا ہے، جس میں سب سے زیادہ 121.6 ارب روپے لوکل گورنمنٹ اور میونسپل انفراسٹرکچر کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ غریب گھرانوں کے لیے 18 ارب روپے کی لاگت سے 2 لاکھ 75 ہزار مفت سولر ہوم سسٹمز تقسیم کیے جائیں گے۔ کراچی کی ترقی کے لیے اربوں روپے کے میگا پروجیکٹس سمیت شہر کے لیے 50 جدید ڈبل ڈیکر بسوں اور 100 نئی الیکٹرک بسوں کی منظوری دی گئی ہے۔ سمارٹ کیمروں کی مدد سے شہر میں سٹریٹ کرائم میں 54 فیصد کمی کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔ کراچی میں 'سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر' قائم کیا جائے گا، جبکہ سیلاب متاثرین کے لیے عالمی تعاون سے مزید 17 لاکھ ہاؤسنگ یونٹس تعمیر کیے جائیں گے۔
سندھ کا 35 کھرب 62 ارب روپے کا بجٹ پیش؛ تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ، کوئی نیا ٹیکس نہیں لگا