بغداد (رم نیوز) متحدہ عرب امارات کی جانب سے تنظیم سے علیحدگی کے بعد اب اوپیک کے بانی رکن عراق نے بھی تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کو الٹی میٹم دیتے ہوئے پیداواری کوٹہ بڑھانے کا بڑا مطالبہ کر دیا ہے اور کوٹہ نہ بڑھانے کی صورت میں تنظیم چھوڑنے کا عندیہ دے دیا ہے۔
عراقی وزارتِ تیل کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، حالیہ جنگ کی وجہ سے ملکی تیل کی صنعت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ چونکہ عراق کی معیشت کا 90 فیصد انحصار تیل کی برآمدات پر ہے، اس لیے پیداوار پر لگی پابندیاں ملکی بجٹ اور معاشی استحکام کو براہِ راست متاثر کر رہی ہیں۔ عراق کا مطالبہ ہے کہ اوپیک تمام رکن ممالک کی حقیقی پیداواری صلاحیت کا ازسرِ نو جائزہ لے کر نئے کوٹے مقرر کرے۔
دوسری جانب عراقی وزارتِ تیل کے ترجمان نے ان میڈیا رپورٹس پر وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فی الحال عراق کا تنظیم چھوڑنے کا کوئی فوری ارادہ نہیں ہے اور وہ اوپیک کے فیصلوں کا پابند ہے، تاہم اگر اوپیک نے عراق کے منفرد سیکیورٹی اور معاشی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کوٹے میں اضافہ نہ کیا تو حکومت مستقبل میں تنظیم میں رہنے یا نہ رہنے کے حوالے سے اہم فیصلہ کر سکتی ہے۔ یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) رواں سال یکم مئی 2026 کو اوپیک سے اپنی 60 سالہ رکنیت باضابطہ طور پر ختم کر چکا ہے تاکہ وہ پابندیوں سے آزاد ہو کر اپنی قومی مفادات کے مطابق تیل کی پیداوار بڑھا سکے۔ ماہرین کے مطابق یو اے ای کے بعد اب عراق کے اس سخت مؤقف سے عالمی مارکیٹ اور اوپیک کے اتحاد کو بڑا دھچکا لگ سکتا ہے۔