مکہ معاہدہ ،بنیادی مقصد خطے کے امن کو درپیش خطرات سے مشترکہ حکمت عملی کے تحت نمٹنا ہے:ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد (رم نیوز)ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں خطے کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور سفارتی پیشرفت پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی تجارت کو نقصان پہنچانے کے لیے کمرشل جہازوں پر حملے اور آزادانہ بحری راستوں میں رکاوٹیں کھڑی کرنا ناقابلِ قبول اور انتہائی قابلِ مذمت اقدام ہے۔ اس موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان سعودی عرب کی قیادت میں قائم بحری اتحاد کے معاہدے کو آپریشنل بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ترجمان نے حالیہ اہم سفارتی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ 7 اگست کا مکہ معاہدہ طے پایا ہے جو کہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا حامل ہے۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد خطے کے امن کو درپیش خطرات سے مشترکہ حکمت عملی کے تحت نمٹنا ہے۔

خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر من و عن عمل درآمد کے لیے کوشاں ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے تمام براہِ راست اور بالواسطہ چینلز استعمال کیے جا رہے ہیں تاکہ تمام متعلقہ فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان دیرپا امن کے قیام کے لیے ایک موثر ثالث کا کردار ادا کرنے کی پرامید توقع رکھتا ہے۔ پریس بریفنگ میں دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے اہم ترین دوروں کا بھی اعلان کیا گیا۔ ترجمان نے بتایا کہ بحرین کے وزیر خارجہ نے پاکستان کا دورہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، جس کا وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے گرم جوشی سے خیرمقدم کیا ہے۔ دوسری جانب، وزیر داخلہ محسن نقوی اس وقت ایران کے سرکاری دورے پر موجود ہیں جہاں ان کی ملاقاتوں کا مقصد دونوں ہمسایہ برادر ممالک کے باہمی تعلقات اور تعاون کو مزید استحکام دینا ہے۔