بنگلہ دیش میں خسرہ کی وبا، 999 اموات اور 166,000 سے زائد کیسز:رائٹرز کی رپورٹ میں انکشاف

ڈھاکہ(رم نیوز) بنگلہ دیش، جو کبھی خسرہ کے خاتمے کے بالکل قریب پہنچ چکا تھا، اس وقت اپنی تاریخ کی بدترین وبا کا سامنا کر رہا ہے۔ مارچ سے لے کر اب تک خسرہ سے مشتبہ اور تصدیق شدہ 999 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں، جبکہ ہسپتالوں میں شدید ہجوم، طبی سامان کی قلت اور بیمار بچوں کی مسلسل آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اپریل میں شروع کی جانے والی ہنگامی ملک گیر ویکسی نیشن مہم کے باوجود یہ طویل وبا اس وقت پھیلی جب ملک 2024 اور 2025 میں سیاسی بحران سے گزر رہا تھا۔امریکہ کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کی ویب سائٹ پر موجود فہرست کے مطابق، بنگلہ دیش اس وقت دنیا میں خسرہ کی سب سے بڑی وبا کا سامنا کر رہا ہے۔

محکمہ صحت کے حکام اور ماہرین کا کہنا ہے کہ سیاسی بحران کی وجہ سے ویکسی نیشن کا رہ جانا اور ویکسین کی فراہمی میں مسائل نے بچوں کو بالخصوص نو ماہ سے کم عمر کے شیر خوار بچوں کو، جو باقاعدہ ویکسینیشن کے لیے بہت چھوٹے ہیں، غیر محفوظ بنا دیا، جس سے تمام عمر کے گروہوں میں اس بیماری کے پھیلاؤ میں مدد ملی۔اعداد و شمار کے مطابق، مارچ میں وبا پھوٹنے کے بعد سے بنگلہ دیش میں خسرہ کے 166,000 سے زائد مشتبہ کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں، جن میں 19,835 لیبارٹری سے تصدیق شدہ انفیکشنز بھی شامل ہیں۔ اس وبا سے 999 اموات ہوئی ہیں، رپورٹ کے مطابق 146,000 سے زائد مشتبہ مریضوں کو ہسپتال میں داخل کیا جا چکا ہے۔