اسلام آباد(رم نیوز) وفاقی حکومت نے ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ، آٹو سیکٹر کی برآمدات بڑھانے اور صارفین کو ریلیف دینے کے لیے نئی آٹو پالیسی کا مسودہ تیار کر کے آئی ایم ایف کو بھجوا دیا ہے، جس پر آئندہ اقتصادی جائزہ مذاکرات میں حتمی مشاورت متوقع ہے۔
نئی پالیسی کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، کیپیٹل ویلیو ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ الیکٹرک گاڑی کی خریداری کے لیے قرض کی حد بڑھا کر ایک کروڑ روپے اور مدت پانچ سال کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ عام گاڑیوں پر کسٹمز ڈیوٹی آئندہ پانچ برسوں میں مرحلہ وار کم کر کے 80 فیصد تک لائی جائے گی۔
نئی پالیسی میں صارفین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ گاڑی کی بکنگ کے وقت ہی خریدار کو اس کی متوقع ڈلیوری تاریخ بتائی جائے گی، اور بکنگ کے بعد قیمت میں کسی بھی قسم کے اضافے کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ مینوفیکچرنگ کمپنی پر عائد ہوگی۔