جنگِ ستمبر کے ہیرو میجر عزیز بھٹی شہید کا 61واں یوم شہادت، قوم کی جانب سے شاندار خراج عقیدت

راولپنڈی (رم نیوز) پاک فوج کے عظیم سپوت اور جنگِ ستمبر 1965ء کے امر ہیرو، نشانِ حیدر پانے والے میجر عزیز بھٹی شہید کا 61واں یوم شہادت آج بھرپور ملی جذبے اور عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ 6 اگست 1928ء کو پیدا ہونے والے راجا عزیز بھٹی کے خاندان نے قیامِ پاکستان سے قبل اپنے آبائی گاؤں لدیاں (ضلع گجرات) میں سکونت اختیار کی تھی۔ انہوں نے 21 جنوری 1948ء کو پاکستان ملٹری اکیڈمی میں شمولیت اختیار کی اور 1950ء میں پی ایم اے کے پہلے ریگولر کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ میں بہترین کیڈٹ کا اعزاز حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ شہیدِ ملت لیاقت علی خان کے ہاتھوں شمشیرِ اعزازی اور نارمن گولڈ میڈل بھی اپنے نام کیا۔ 1965ء کی جنگ کے دوران میجر عزیز بھٹی کو بی آر بی نہر کے حساس محاذ پر تعینات کیا گیا، جہاں انہوں نے کئی روز تک نامساعد حالات اور بھوک پیاس کی پروا کیے بغیر دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا۔

ان کی جرات مندانہ مزاحمت کے نتیجے میں دشمن کے دو ٹینک تباہ ہوئے اور وافر جنگی سازوسامان کے باوجود بھارتی فوج ایک انچ بھی آگے نہ بڑھ سکی۔ 12 ستمبر کی صبح دشمن کی نقل و حرکت کا جائزہ لیتے ہوئے جب وہ بی آر بی نہر کی پٹری پر موجود تھے، تو دشمن کے گولہ باران کا نشانہ بن کر جامِ شہادت نوش کر گئے۔ مٹی کے اس بہادر فرزند کی لازوال قربانی کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے 23 مارچ 1966ء کو انہیں ملک کے سب سے بڑے فوجی اعزاز "نشانِ حیدر" سے نوازا۔ آج ان کے 61ویں یومِ شہادت کے موقع پر شہید کی آخری آرام گاہ پر پھولوں کی چادریں چڑھائی جا رہی ہیں اور فاتحہ خوانی کا اہتمام کیا جا رہا ہے، جبکہ پوری قوم اور افواجِ پاکستان اپنے اس عظیم محسن کی شجاعت کو شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کر رہی ہیں۔