نئی دہلی(رم نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت تجارتی اور معاشی پالیسیوں کے پس منظر میں 18 واں برکس سربراہی اجلاس آج سے انڈیا میں باقاعدہ شروع ہو رہا ہے، جس میں 11 ممالک کے سربراہانِ مملکت اہم عالمی اور معاشی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔ دو روزہ اس اہم اجلاس میں میزبان ملک انڈیا کے علاوہ برازیل، جنوبی افریقہ، چین، روس، ایران، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سمیت 11 رکن ممالک کے رہنما شریک ہیں۔ حالیہ دنوں ایران کی جنگی صورتحال اور امریکی محصولات کی دھمکیوں کی وجہ سے عالمی توانائی کی منڈی اور معیشت میں شدید عدم استحکام اور غیر یقینی پیدا ہوئی ہے، جو کہ اجلاس کے مرکزی موضوعات میں شامل ہے
تاہم، ماہرین کا ماننا ہے کہ برکس پلیٹ فارم سے امریکہ کے خلاف کسی کھلی محاذ آرائی یا مشترکہ حکمتِ عملی کے اعلان کا امکان کم ہے۔ اجلاس میں شرکت کے لیے چینی صدر شی جن پنگ بیجنگ سے انڈیا پہنچ چکے ہیں، جن کے ہمراہ چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی سمیت ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی موجود ہے۔ اس دوران سفارتی حلقوں میں چینی صدر شی جن پنگ اور بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کے درمیان متوقع دوطرفہ ملاقات کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ انڈیا میں چین کے سفیر شو فے ہونگ کے مطابق، دونوں ممالک باہمی تعاون کو مضبوط بنانے اور پرامن طریقے سے اختلافات کے حل کے لیے پرعزم ہیں۔ واضح رہے کہ چینی صدر شی جن پنگ نے آخری بار 2019 میں انڈیا کا دورہ کیا تھا، جہاں چنائی کے قریب ان کی بھارتی وزیراعظم سے تاریخی غیر رسمی ملاقات ہوئی تھی۔