ٹرمپ کا ایران کو تباہی، معاشی بربادی اور معاہدے کا دوٹوک الٹی میٹم

واشنگٹن(رم نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں دوٹوک اعلان کیا ہے کہ امریکہ اب جنگ کے ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑی تبدیلیاں ہونے والی ہیں۔امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایران کے لیے سخت پالیسی کا اظہار کیا اور کہا کہ اب بڑے فیصلوں کا وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے تہران کے سامنے تین واضح اور اہم راستے ،ایران کو مکمل تباہی کے دہانے پر لے جانا،اس کی معیشت کو شدید ترین نقصان پہنچانا،یا پھر امریکہ کے ساتھ کسی باضابطہ معاہدے پر پہنچنا رکھے۔

امریکی صدر نے تنبیہ کی کہ ایران کو اپنا رویہ بدلنا ہوگا بصورت دیگر واشنٹن مزید سخت اور فیصلہ کن اقدامات اٹھائے گا۔ ایک طرف سخت دھمکیاں دی گئیں تو دوسری طرف انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کا امکان بھی ظاہر کیا۔ دوسری جانب، اس کشیدہ صورتحال کے پیشِ نظر امریکا پہلے ہی خطے میں اپنے شہریوں کے لیے سکیورٹی الرٹ جاری کر چکا ہے، جبکہ ردعمل میں ایرانی رہنما محمد باقر قالیباف کا عزم ظاہر کیا ہے کہ تہران دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی بھرپور فوجی طاقت استعمال کرے گا۔