واشنگٹن(رم نیوز) چینی صدر شی جن پنگ کے سرکاری دورے کے دوران وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ نے ان کا اور ان کی اہلیہ پنگ لی یوان کا پرتپاک استقبال کیا۔ استقبالیہ تقریب کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ ملاقات ہوئی، جس میں تجارت، مصنوعی ذہانت (اے آئی)، سکیورٹی اور باہمی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات سے قبل اپنے خطاب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کے لیے ’سپر انٹیلیجنس‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے کہا کہ آج کے فیصلے آنے والی دہائیوں میں امن اور خوشحالی کو فروغ دیں گے۔
انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں ہونے والی پیش رفت اور نئے ’بورڈ آف ٹریڈ‘ کا بھی ذکر کیا۔ چینی صدر شی جن پنگ نے اپنے خطاب میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ امریکا اور چین کو حریف کے بجائے شراکت دار بن کر کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعاون سے دونوں ممالک کو فائدہ جبکہ محاذ آرائی سے نقصان ہوگا۔ چینی صدر نے دونوں افواج کے درمیان رابطے برقرار رکھنے اور ’تھوسی ڈائیڈز ٹریپ‘ سے بچنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں کی جانب سے مشترکہ خیالات کا اظہار کیا گیا جبکہ دن کے اختتام پر چینی صدر کے اعزاز میں ایک پروقار سرکاری عشائیہ بھی دیا گیا۔