جنگ کا خاتمہ اب امریکہ کے فیصلے پر منحصر، مذاکرات کے لیے تیار ہیں: ایرانی صدر مسعود پزشکیان

تہران(رم نیوز)ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ ایران جنگ کو طول دینے کا بالکل خواہاں نہیں ہے، اور اب اس تنازع کے خاتمے کا حتمی فیصلہ امریکہ کو کرنا ہوگا۔ فوکس نیوز کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں ایرانی صدر نے کہا کہ تہران بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتا ہے، تاہم ایران پر دباؤ ڈالنے یا طاقت کے استعمال کی پالیسی کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے مؤقف اپنایا کہ جب تمام معاملات مذاکرات سے طے ہو سکتے ہیں تو طاقت کے استعمال کی کوئی تُک نہیں بنتی، لیکن اسرائیل کی اشتعال انگیز کارروائیوں کے باعث یہ جنگ ایران پر مسلط کی گئی۔ صدر پزشکیان نے انکشاف کیا کہ ایران سابق امریکی انتظامیہ کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی طرز پر ایک بار پھر جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ کرنے کو تیار ہے۔

انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ایک معاہدے پر دستخط کے صرف دو ہفتے بعد اسے کیوں ختم کر دیا گیا تھا؟ ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکی حکومت بین الاقوامی قوانین کا احترام کرتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے معاہدہ کرنا چاہتی ہے تو تہران مکمل طور پر آمادہ ہے۔ ایرانی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکا کے مڈٹرم انتخابات سے پہلے یا بعد میں معاہدہ ہونے سے ایران کے مؤقف پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔