ملواکی(رم نیوز)امریکی شہر ملواکی میں دنیا کی بڑی معیشتوں کے گروپ 20 کے وزرائے تجارت کا دو روزہ اجلاس شروع ہو گیا ہے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ سخت ٹیرف اور تجارتی پالیسیوں کے باعث شدید تناؤ کی زد میں ہے۔ اجلاس میں چین، بھارت، روس، جاپان، جرمنی اور فرانس سمیت جی 20 ممالک کے نمائندے شریک ہیں۔ تاہم، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسیوں اور چین کے برآمدی دفاع کے باعث اس ملاقات میں کسی بڑی پیش رفت کا امکان بہت کم ہے اور مذاکرات کے تعطل کا شکار ہونے کا خدشہ ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے نے اجلاس کے دوران مؤقف اپنایا کہ امریکی انتظامیہ تجارت مخالف نہیں ہے، بلکہ دنیا کو عالمی سطح پر زائد صنعتی پیداوار اور غیر مارکیٹ پالیسیوں جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ادھر کینیڈا اور یورپی یونین جیسے اہم امریکی تجارتی شراکت دار واشنگٹن کے ساتھ بڑھتی ہوئی ٹیرف کشیدگی کے پیش نظر امریکہ سے ہٹ کر دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ جی 20 کے ارکان دنیا کی سب سے بڑی معیشت کے ساتھ تعاون کی راہیں تلاش کرنے کے خواہشمند ہیں، لیکن وہ ٹیرف کے معاملے پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرنے کے لیے بھی دباؤ میں ہیں۔ واضح رہے کہ اس وقت امریکہ کے پاس جی 20 کی صدارت ہے، جس میں 19 ممالک کے علاوہ یورپی یونین اور افریقی یونین بھی شامل ہیں۔