وفاقی آئینی عدالت کے 126 صفحات پر مشتمل نئے رولز جاری، اہم ضوابط طے

اسلام آباد(رم نیوز) وفاقی آئینی عدالت کے 126 صفحات پر مشتمل نئے قواعد و ضوابط پبلک کر دیے گئے ہیں، جن میں توہین عدالت، سزائے موت، نظرثانی درخواستوں اور آرٹیکل 63A سمیت مختلف امور کے ضابطے وضع کیے گئے ہیں۔ عدالت ازخود یا درخواست پر توہین عدالت کی کارروائی چلا سکے گی۔ بے بنیاد نظرثانی یا التوا کی درخواستوں پر کم از کم 25 ہزار روپے جرمانہ اور زر ضمانت عائد ہوگا۔سزائے موت کے خلاف نظرثانی درخواست دائر ہونے پر فیصلے تک عملدرآمد خودکار طور پر معطل رہے گا۔ آرٹیکل 63A کے تحت اپیل 30 دن میں دائر ہوگی جس کا فیصلہ 90 دن میں کیا جائے گا۔ ہر فریق کو زبانی دلائل کے لیے 10 سے 30 منٹ ملیں گے۔ ہر مقدمہ کم از کم 2 ججز کا بینچ سنے گا، جبکہ وکلا کی انرولمنٹ اور پیشہ ورانہ رویے کے لیے سخت ضابطے طے کیے گئے ہیں۔