تہران(رم نیوز)ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تہران میں غیر ملکی سفارت کاروں سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جاری تنازع کا کوئی بھی فوجی حل موجود نہیں ہے، اور اس وقت دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ رواں سال فروری کے آخر میں شروع ہونے والی اس جنگ میں ہونے والی شدید بمباری بھی کسی فیصلہ کن نتیجے تک پہنچنے میں ناکام رہی ہے، جس کے بعد واشنگٹن نے حالیہ ہفتوں میں فوجی کارروائیوں میں کمی کر کے اقتصادی دباؤ بڑھانے کا طریقہ اپنایا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مخالف فریق نے دوبارہ عسکری محاذ آرائی کا راستہ چنا تو ایران کا ردعمل پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور ہوگا اور وہ بھرپور دفاع کرے گا۔ واضح رہے کہ فریقین کے درمیان جون میں ایک مفاہمتی یادداشت طے پائی تھی جس میں مستقل حل کا فریم ورک تیار کیا گیا تھا، تاہم آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں کے بعد امریکا کو دوبارہ فوجی کارروائیوں کی طرف لوٹنا پڑا۔ ایران کا موقف ہے کہ نہ تو کوئی فوجی طریقہ کار مسائل حل کر سکتا ہے اور نہ ہی نئی پابندیوں سے کوئی بہتری آ سکتی ہے، اس لیے تنازع کے خاتمے کا واحد حل صرف منصفانہ اور عادلانہ مذاکرات ہیں۔