بیجنگ میں فیصلہ کن تجارتی مذاکرات، چینی برآمدات کی روک تھام اور برآمدی لائسنسنگ کا نظام یورپی یونین کی بنیادی ترجیحات

برسلز(رم نیوز)تجارتی جنگ کا خطرہ ٹالنے کے لیے یورپی یونین کے ٹریڈ چیف ماروش شیفکووچ جمعرات کو دو روزہ انتہائی اہم مذاکرات میں شرکت کی غرض سے بیجنگ روانہ ہوں گے۔ یہ دورہ دونوں معاشی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یورپی یونین نے کارسازی سمیت دیگر اہم شعبوں میں اپنی کاروباری مارکیٹ کا دفاع کرنے کے لیے بیجنگ کے خلاف اپنے مؤقف کو خاصا سخت کر لیا ہے۔ اس دوران یورپی رہنماؤں اور مبصرین کی جانب سے مسلسل "چائنہ شاک 2.0" سے خبردار کیا جا رہا ہے، جو کہ چینی کمپنیوں کے ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ کی طرف اس بڑھتے ہوئے رجحان کو ظاہر کرتا ہے جو روایتی یورپی صنعتوں کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کے بنیادی مطالبات میں بلاک کو چینی برآمدات میں ہونے والے غیر معمولی اضافے کو روکنا، چین کے لیے یورپی برآمدات میں اضافہ کرنا، اور نایاب زمینی دھاتوں (ریئر ارتھس) کے لیے برآمدی لائسنسنگ کا نظام محفوظ بنانا شامل ہے۔ برسلز بیک وقت اپنے تجارتی دفاعی ٹولز کو مضبوط کرنے پر کام کر رہا ہے جس میں ممکنہ طور پر 'امریکی سیکشن 301 کا یورپی متبادل' بھی زیر غور ہے، تاہم چین نے کسی بھی ایسے ہدف شدہ اقدام کے خلاف سخت جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ تجارتی عدم توازن کے تدارک کے لیے جون سے جاری ان مذاکرات کے حوالے سے یورپی حکام واضح کر چکے ہیں کہ اب اس عمل کے حتمی اور "ٹھوس نتائج" سامنے آنے چاہئیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ ملاقاتیں تجارتی محاذ آرائی کو روکنے کے لیے کلیدی اہمیت کی حامل ہیں، تاہم موجودہ سخت موقف کے پیش نظر فوری اور بڑے فیصلوں کی توقعات محدود رکھی جا رہی ہیں۔