مشی گن(رم نیوز)چربی کو اگرچہ عام طور پر وزن میں اضافے اور بیماریوں کی جڑ سمجھا جاتا ہے،تاہم یونیورسٹی آف مشی گن کے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ جسم میں چربی کا ایک مخصوص تناسب ہارمونز کے اخراج، توانائی کی ذخیرہ اندوزی اور درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ حالیہ طبی رپورٹس میں انتباہ کیا گیا ہے کہ انتہائی دبلا ہونے یا چربی کو حد سے زیادہ کم کرنے کی دوڑ صحت کے لیے شدید نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ جسمانی چربی ایک فعال عضو کی طرح کام کرتی ہے جو ضرورت کے وقت توانائی فراہم کرتی ہے۔
چربی کے خلیات 'لیپٹن' جیسے اہم ہارمون پیدا کرتے ہیں جو دماغ کو سگنل دیتے ہیں، جس سے مدافعتی نظام، تولیدی صحت اور دیگر ضروری افعال درست طریقے سے کام کرتے ہیں۔چربی جسم کو سردی سے بچانے اور درجہ حرارت کو متوازن رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ جب جسم میں چربی خطرناک حد تک کم ہو جاتی ہے تو جسم 'سٹاروسوگ موڈ' (فلاکت کی حالت) میں چلا جاتا ہے، جس سے مدافعتی نظام مفلوج ہونے لگتاہے۔ ماہرین کے مطابق اس وجہ سے پٹھے بھی کمزور ہونے لگتے ہیںاور ہڈیاں کمزور ہو جاتی ہیں۔ماہرین طب کےمطابق اس وجہ سے فریکچر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اور کسی بھی سنگین بیماری کے وقت جسم کے پاس قوتِ مدافعت یا توانائی کے ذخائر نہیں بچاتے۔مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح جبکہ خواتین میں ماہواری کا نظام شدید متاثر ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق بالغ مردوں میں جسمانی چربی کی شرح عام طور پر 10 سے 20 فیصد جبکہ صحت مند خواتین میں 20 سے 29 فیصد کے درمیان ہونی چاہیے۔